صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن الخير الفاضل من أهل العلم قد يخفى عليه من السنن المشهورة ما يحفظه من هو دونه أو مثله وإن كثر مواظبته عليها وعنايته بها باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ بعض اوقات اہل علم کے فاضل شخص سے مشہور سنتوں میں سے کوئی سنت چھپ جاتی ہے جو اس سے کم یا اس کے برابر شخص کو یاد ہوتی ہے، خواہ وہ اس پر کتنا ہی عمل اور توجہ دے
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ لَنَا : قُومُوا فَصَلُّوا ، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ ، " فَأَقَامَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ ، فَصَلَّى بِنَا بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلا إِقَامَةٍ ، فَجَعَلَ إِذَا رَكَعَ طَبَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، وَجَعَلَهَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ " ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ .اسود بیان کرتے ہیں: میں اور علقمہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے ہم سے فرمایا تم لوگ اٹھو اور نماز ادا کر لو۔ ہم اٹھ کر ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے، تو انہوں نے ہم میں سے ایک کو اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا اور دوسرے کو اپنے بائیں طرف کھڑا کر لیا۔ انہوں نے اذان دیئے بغیر اور اقامت کہے بغیر ہمیں نماز پڑھائی جب وہ رکوع میں گئے، تو انہوں نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں اور انہیں دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا۔ جب انہوں نے نماز ادا کر لی، تو یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔