صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صفة الصلاة - ذكر ما يستحب للمصلي رفع اليدين عند إرادته الركوع وعند رفع رأسه منه باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی کے لیے مستحب ہے کہ وہ رکوع کے ارادے اور اس سے سر اٹھانے پر ہاتھ اٹھائے
حدیث نمبر: 1861
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا ، وَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ . وَكَانَ لا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تھے، تو دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے۔ جب آپ رکوع میں جانے کیلئے تکبیر کہتے تھے اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تھے، تو انہیں اس طرح سے بلند کرتے تھے اور آپ یہ کہتے تھے: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لیے مخصوص ہے ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں میں (یعنی دو سجدوں کے درمیان) ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔