حدیث نمبر: 1854
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ صَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ لَكَ فِي ذَلِكَ خَيْرٌ ، كَانَتِ الصَّلاةُ تُقَامُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَخْرُجُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ لِيَقْضُيَ حَاجَتَهُ ، ثُمَّ يَجِيءُ ، فَيَتَوَضَّأُ ، فَيَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ " .

قزعہ بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اس میں تمہارے لیے بھلائی نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے نماز کی اقامت کہہ لی جاتی تھی پھر ہم سے کوئی ایک شخص قضائے حاجت کرنے کیلئے بقیع (کے میدان) کی طرف چلا جاتا تھا۔ پھر وہ واپس آتا تھا۔ وضو کر لیتا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی نماز کی پہلی رکعت میں پا لیتا تھا۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1854
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة»: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1851»