صحیح ابن حبان
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے احکام و مسائل
باب فرض الإيمان - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الإيمان لم يزل على حالة واحدة من غير أن يدخله نقص أو كمال- باب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اُن لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے کہا کہ ایمان ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہتا ہے اور اس میں نہ کمی آتی ہے نہ زیادتی۔
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِم ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ يَهُودِيٌّ لِعُمَرَ لَوْ عَلِمْنَا ، مَعْشَرَ الْيَهُودِ ، مَتَى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ لاتَّخَذْنَاهُ عِيدًا : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ، وَلَوْ نَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ لاتَّخَذْنَاهُ عِيدًا ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : " قَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ ، وَاللَّيْلَةَ الَّتِي أُنْزِلَتْ ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ " .طارق بن شہاب کہتے ہیں: ایک یہودی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر ہم یہودیوں کو یہ پتہ چل جائے کہ یہ آیت کب نازل ہوئی تھی؟ تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیں۔ ” آج کے دن میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے۔ “ اور اگر اب بھی ہمیں اس دن کا پتہ چل جائے کہ جس دن یہ آیت نازل ہوئی تھی، تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیں گے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس دن کے بارے میں پتہ ہے، جس دن یہ آیت نازل ہوئی تھی اور اس رات کے بارے میں بھی پتہ ہے، جس میں یہ نازل ہوئی تھی: یہ جمعہ کا دن تھا، اور ہم اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں موجود تھے۔