صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم ما لي أنازع القرآن أراد به رفع الصوت لا القراءة خلفه باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "میں قرآن سے کیوں جھگڑا کروں" سے مراد بلند آواز سے قراءت ہے، نہ کہ امام کے پیچھے قراءت
حدیث نمبر: 1845
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلا قَرَأَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الظُّهْرِ ، أَوِ الْعَصْرِ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمْ قَرَأَ بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا . فَقَالَ : " قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " .سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے شاید ظہر یا عصر کی نماز میں تلاوت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے سورۂ اعلیٰ کی تلاوت کی ہے۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جان گیا تھا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص میرے لیے رکاوٹ ڈال رہا ہے۔