صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم ما لي أنازع القرآن أراد به رفع الصوت لا القراءة خلفه باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "میں قرآن سے کیوں جھگڑا کروں" سے مراد بلند آواز سے قراءت ہے، نہ کہ امام کے پیچھے قراءت
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ أَبِي زُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ ، أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " أَتَقْرَءُونَ فِي صَلاتِكُمْ خَلْفَ الإِمَامِ ، وَالإِمَامُ يَقْرَأُ ؟ " . فَسَكَتُوا ، فَقَالَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ قَائِلٌ ، أَوْ قَائِلُونَ : إِنَّا لَنَفْعَلُ . قَالَ : " فَلا تَفْعَلُوا ، وَلْيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ " . قَوْلُهُ : " فَلا تَفْعَلُوا " ، لَفْظَةُ زَجْرٍ مُرَادُهَا ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ ، إِذِ الْعَرَبَ تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي لُغَتِهَا كَثِيرًا .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو۔ جب امام تلاوت کر رہا ہو؟ لوگ خاموش رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی تو ایک صاحب نے عرض کی: یا شاید لوگوں نے عرض کی: ہم ایسا کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایسا نہ کرو۔ تم میں سے کوئی ایک (یعنی ہر ایک) اپنے دل میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کر لیا کرے ۔“ روایت کے یہ الفاظ: ” تم ایسا نہ کرو “ یہ الفاظ ممانعت کے ہیں، لیکن اس سے مراد ابتدائی طور پر نئے سرے سے کوئی حکم دینا ہے، کیونکہ عرب اپنے محاور ے میں اکثر ایسا کرتے ہیں۔