صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن قراءة قل أعوذ برب الفلق من أحب ما يقرأ العبد في صلاته إلى الله جل وعلا باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ سورۃ الفلق کی قراءت بندے کی وہ قراءت ہے جو اللہ جل وعلا کو اس کی نماز میں پسند ہے
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَذَكَرَ ابْنَ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَسْلَمَ بْنِ عِمْرَانَ ، ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : تَبِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ ، فَجَعَلْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْرِئْنِي إِمَّا مِنْ سُورَةِ هُودٍ ، وَإِمَّا مِنْ سُورَةِ يُوسُفَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ ، إِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَ سُورَةً أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ ، وَلا أَبْلَغَ عِنْدَهُ مِنْ أَنْ تَقْرَأَ : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ سورة الفلق آية 1 ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لا تَفُوتَكَ فِي صَلاةٍ فَافْعَلْ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَسْلَمُ بْنُ عِمْرَانَ ، كُنْيَتُهُ : أَبُو عِمْرَانَ ، مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، مِنْ جُمْلَةِ تَابِعِيهَا .سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آیا آپ اس وقت سوار تھے۔ میں نے اپنا ہاتھ آپ کے قدم شریف پر رکھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے تلاوت سکھا دیجئے یا سورہ ہود کی یا سورۃ یوسف کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عقبہ بن عامر! تم ایسی کسی سورت کی تلاوت نہیں کرو گے جواللہ تعالیٰ کے نزدیک سورت فلق سے زیادہ محبوب اور اس کی بارگاہ میں زیادہ پہنچنے والی ہو۔ اگر تم سے ہو سکے تو تم ہر نماز میں اسے پڑھا کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اسلم بن عمران کی کنیت ابوعمران ہے، یہ اہل مصر میں سے ہیں اور وہاں کے تابعین میں سے ہیں۔