صحیح ابن حبان
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے احکام و مسائل
باب فرض الإيمان - ذكر الإخبار بأنهم يعودون بيضا بعد أن كانوا فحما يرش أهل الجنة عليهم الماء- باب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کی خبر کہ وہ لوگ سیاہ ہونے کے بعد سفید ہو جائیں گے اور اہلِ جنت ان پر پانی چھڑکیں گے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا ، فَإِنَّهُمْ لا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلا يَحْيَوْنَ ، وَلَكِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ ، أَوْ قَالَ : بِخَطَايَاهُمْ ، حَتَّى كَانُوا فَحْمًا إِذْنَ فِي الشَّفَاعَةِ ، فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ ، فَبُثُّوا عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ ، ثُمَّ قِيلَ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ ، قَالَ : فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحَبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : كَأَنَّهُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَادِيَةِ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے، تو وہ جہنم میں رہیں گے ان کو موت نہیں آئے گی اور وہ (ٹھیک طرح سے) زندہ نہیں ہوں گے ۔“ لیکن کچھ لوگ ہوں گے جنہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ (کا عذاب پہنچے گا) راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان کی خطاؤں کی وجہ سے ہو گا یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے، تو پھر ان لوگوں کو گروہ در گروہ بلایا جائے گا۔ انہیں اہل جنت کے سامنے رکھا جائے گا اور یہ کہا: جائے گا: اے اہل جنت! تم ان پر پانی بہاؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو وہ یوں پھوٹ پڑیں گے، جس طرح سیلابی پانی کے راستے میں سے دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: یوں لگتا ہے، جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ویرانوں میں بھی رہے ہیں۔