صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صفة الصلاة - ذكر الخبر الدال على أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يجهر في صلاة الظهر والعصر بالقراءة كلها باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں پوری قراءت بلند آواز سے نہیں کرتے تھے
حدیث نمبر: 1830
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ : قُلْنَا لِخَبَّابٍ : بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ قَالَ : " بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ " . أَبُو مَعْمَرٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ .ابومعمر بیان کرتے ہیں ہم لوگوں نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا آپ حضرات کس طرح ظہر اور عصر کی نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کا اندازہ لگاتے تھے انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کی حرکت کی وجہ سے۔ ابومعمر نامی راوی کا نام عبداللہ بن سخیرہ ہے۔