صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صفة الصلاة - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة الحديث أنه مضاد لخبر أبي سعيد الذي ذكرناه باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت سے ناواقف کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے بیان کردہ ابو سعید کی خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 1829
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، وَأَبَانُ ، جميعا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا ، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " .عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی ابتدائی دو رکعات میں سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ کسی سورۃ کی تلاوت کرتے تھے آپ بعض اوقات کوئی ایک آیت ہمیں سنا دیتے تھے (یعنی بلند آواز میں تلاوت کرتے تھے) اور آپ آخری دو رکعات میں صرف سورۃ فاتحہ کی تلاوت کرتے تھے۔