صحیح ابن حبان
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے احکام و مسائل
باب فرض الإيمان - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن إيمان المسلمين واحد من غير أن يكون فيه زيادة أو نقصان- باب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اُن لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا ایمان ایک ہی درجہ کا ہے اور اس میں کوئی زیادتی یا کمی نہیں۔
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُدْخِلُ الِلَّهِ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ بِرَحْمَتِهِ ، وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَخْرِجُوا مَنَ كَانَ فِي قَلْبِهِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ ، فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا حُمَمًا ، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرٍ فِي الْجَنَّةِ ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ حَبَّةٌ فِي جَانِبِ السَّيْلِ ، أَلَمْ تَرَهَا صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً ؟ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کر دے گا، وہ جسے چاہے گا اپنی رحمت کی وجہ سے داخل کرے گا۔ اور وہ اہل جہنم کو جہنم میں داخل کر دے گا، پھر وہ یہ فرمائے گا: اس شخص کو جہنم سے نکال دو، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان موجود ہے۔ تو ان لوگوں کو جہنم سے نکالا جائے گا اور وہ کوئلہ بن چکے ہوں گے۔ پھر انہیں جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا، تو وہ اس میں سے یوں پھوٹ پڑیں گے، جس طرح سیلابی پانی کی گزرگاہ میں سے دانہ پھوٹتا ہے۔ کیا تم نے اسے دیکھا نہیں ہے، وہ زرد ہوتا ہے، اور ادھر ادھر جھکتا ہے۔