صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صفة الصلاة - ذكر الإباحة للمرء أن يقرأ بعض السورة في الركعة الواحدة إذا كان ذلك من أولها لا من آخرها من علة تكون بحدث باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی ایک رکعت میں سورت کا کچھ حصہ پڑھ سکتا ہے اگر وہ اس کے شروع سے ہو، نہ کہ آخر سے، بشرطیکہ کوئی عذر جیسے حدث ہو
حدیث نمبر: 1815
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمِنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ ابْنِ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنَا ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْعَابِدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ الصُّبْحَ ، وَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ ، حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى ، وَهَارُونَ ، أَوْ ذِكْرُ عِيسَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ يَشُكُّ أَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ ، فَرَكَعَ " . قَالَ : وَابْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ ذَلِكَ .سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں صبح کی نماز پڑھائی آپ نے سورۃ مومنون کی تلاوت سے آغاز کیا جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا ہارون علیہ السلام کا تذکرہ آیا۔ یا شائد سیدنا عیسی علیہ السلام کا تذکرہ آیا۔ یہاں شک محمد بن عباد نامی راوی کو ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں ابن سائب اس وقت وہاں موجود تھے۔