صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صفة الصلاة - ذكر استحباب الحمد لله جل وعلا للمرء عند القيام إلى الصلاة باب: نماز کے طریقہ کا بیان - نماز کی طرف کھڑے ہونے پر اللہ جل وعلا کی حمد کے استحباب کا ذکر
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلامٍ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِيهِمْ ، فَجَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ قَالَ : " أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ ؟ " . فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا " فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهُنَّ ، فَقَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا ابْتَدَرَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص آیا اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔ اس نے یہ کہا: ” ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ ایسی حمد جو زیادہ ہو، پاکیزہ ہو۔ اس میں برکت رکھی گئی ہو ۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ نے دریافت کیا: ان کلمات کو بولنے والا شخص کون ہے، تو لوگ خاموش رہے، آپ نے دریافت کیا: ان کلمات کو کہنے والا شخص کون ہے؟ اس نے کوئی بری بات نہیں کی ہے اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ہوں۔ میں آیا تھا تو میرا سانس پھول رہا تھا۔ تو میں نے یہ کلمات کہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ان کی طرف لپکے کہ کون ان کو اوپر لے جاتا ہے۔