صحیح ابن حبان
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے احکام و مسائل
باب فرض الإيمان - ذكر إطلاق اسم الإيمان على من أتى ببعض أجزائه- باب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس شخص پر ایمان کا نام لگایا جانا جس نے اس کے بعض اجزاء پر عمل کیا۔
حدیث نمبر: 176
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الإِيمَانُ ؟ قَالَ : " سَرَّتْكَ حَسَنَاتُكَ ، وَسَاءَتْكَ سَيِّئَاتُكَ ، فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا الإِثْمُ ؟ قَالَ : " حَاكَ فِي قَلْبِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ " .سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہاری نیکیاں تمہیں اچھی لگیں اور تمہاری برائیاں تمہیں بری لگیں، تو تم مومن ہو۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! گناہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے، تو تم اسے چھوڑ دو ۔“