صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فضل الصلوات الخمس - ذكر خبر ثان يدل على أن هذا الفعل لم يكن بفعل يوجب الحد باب: پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ فعل وہ نہیں تھا جو حد کو واجب کرے
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، بِالصُّغْدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً ، كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : أَلِي هَذِهِ ؟ قَالَ : " هِيَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي " .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا کفارہ دریافت کرنا چاہتا ہے، تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ” دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں یہ بات نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے نصیحت ہے ۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس شخص نے دریافت کیا کہ کیا یہ حکم صرف میرے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری امت کے ہر اس شخص کیلئے ہے، جو اس پر عمل کرے ۔“