صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فضل الصلوات الخمس - ذكر تكفير الصلوات الخمس الحد عن مرتكبه باب: پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - پانچوں نمازوں کے ذریعے گناہوں کے کفارے کا ذکر جو اس کے مرتکب سے ہٹ جاتا ہے
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الأَسْقَعِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ . قَالَ : فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَوَضَّأْتَ حِينَ أَقْبَلْتَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " صَلَّيْتَ مَعَنَا ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَاذْهَبْ ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ " .سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے آپ مجھ پر حد قائم کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا۔ پھر نماز قائم کی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے مجھ پر اسے قائم کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کیا جب تم آئے تھے، تو تم نے وضو کیا تھا۔ اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا کی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں!