صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب شروط الصلاة - ذكر البيان بأن الأمر بالصلاة في ثوبين إنما أمر لمن وسع الله عليه وإن كانت الصلاة في ثوب واحد مجزئة باب: نماز کی شرائط کا بیان - اس بات کا بیان کہ دو کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم اس کے لیے ہے جسے اللہ نے وسعت دی، اور ایک کپڑے میں نماز کافی ہے
حدیث نمبر: 1715
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ ، إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ ، فَقَالَ لَهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " أَنْزَلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ ، فَاسْتَقْبِلُوهَا ، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ " .عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے ایک مرتبہ لوگ قبا میں صبح کی نماز ادا کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے ان سے کہا: اللہ کے رسول پر گزشتہ رات قرآن نازل ہوا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے، آپ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر لیں تو تم لوگ بھی اس کی طرف رخ کر لو۔ ان لوگوں کے چہرے اس وقت شام کی طرف تھے، تو وہ گھوم کر خانہ کعبہ کی طرف ہو گئے۔