صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب شروط الصلاة - ذكر البيان بأن الأمر بالصلاة في ثوبين إنما أمر لمن وسع الله عليه وإن كانت الصلاة في ثوب واحد مجزئة باب: نماز کی شرائط کا بیان - اس بات کا بیان کہ دو کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم اس کے لیے ہے جسے اللہ نے وسعت دی، اور ایک کپڑے میں نماز کافی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ؟ قَالَ : " إِذَا وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ، فَأَوْسِعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ، صَلَّى رَجُلٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ ، فِي إِزَارٍ وَقَمِيصٍ ، فِي إِزَارٍ وَقَبَاءٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَمِيصٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَرِدَاءٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَبَاءٍ ، فِي تُبَّانٍ وَقَمِيصٍ ، فِي تُبَّانٍ وَقَبَاءٍ " ، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ ، قَالَ : فِي تُبَّانٍ ، وَرِدَاءٍ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز ادا کر سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگراللہ تعالیٰ تمہیں گنجائش دے، تو تم اپنے آپ کو گنجائش دو آدمی اپنے جسم پر دو طرح کے کپڑے اکٹھے کرے۔ آدمی تہبند اور چادر میں، یا تہبند اور قمیص میں، یا تہبند اور قبا میں، یا شلوار اور چادر میں، یا شلوار اور قبا میں یا پاجامے اور قمیص میں یا پاجامے اور قیا میں نماز ادا کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا: پاجامے اور چادر میں (نماز ادا کرے)