صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الأذان - ذكر مغفرة الله جل وعلا لمن شهد لله بالوحدانية ولرسوله صلى الله عليه وسلم بالرسالة باب: اذان کا بیان - اللہ جل وعلا کی مغفرت کا ذکر جو اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ : وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالإِسْلامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ” جو شخص مؤذن (کی اذان) کو سن کر یہ کہے، میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میںاللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی ہوں (یعنی ان پر ایمان رکھتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔“