صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الأذان - ذكر شهادة الجن والإنس والأشياء للمؤذن يوم القيامة بأذانه في الدنيا باب: اذان کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ جن، انسان اور چیزیں قیامت کے دن مؤذن کے لیے اس کی دنیا میں اذان دینے کی گواہی دیں گی
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : " إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ وَبَادِيَتِكَ ، وَأَذَّنْتَ فِي الصَّلاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ ، فَإِنَّهُ لا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلا إِنْسٌ وَلا شَيْءٌ ، إِلا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا عبدالرحمن بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا میں نے دیکھا ہے، تم بھیڑ بکریوں میں رہنے اور دیہاتی زندگی کو پسند کرتے ہو (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) یا تم بھیڑ بکریوں میں اور ویرانے میں رہتے ہو، تو نماز کی اذان دو اور اپنی آواز کو اذان دیتے ہوئے بلند رکھو، کیونکہ مؤذن کی آواز جہاں تک جاتی ہے وہاں اسے جو بھی جن، انسان اور جو بھی چیز سنتی ہے، تو وہ قیامت کے دن اس مؤذن کے حق میں گواہی دے گی ۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔