صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب المساجد - ذكر الزجر عن رفع الأصوات في المساجد لأجل شيء من أسباب هذه الدنيا الفانية باب: مساجد کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ مساجد میں دنیاوی اسباب کی وجہ سے آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ عُمَرَ مَرَّ بِحَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ شِعْرًا ، فَلَحَظَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : لَقَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ ، أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَجِبْ عَنِّي ، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَمْرُ بِالذَّبِّ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرٌ مَخْرَجُهُ الْخُصُوصُ قُصِدَ بِهِ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَالْمُرَادُ مِنْهُ إِيجَابُهُ عَلَى كُلِّ مَنْ فِيهِ آلَةُ الذَّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَذِبَ وَالزُّورَ ، وَمَا يُؤَدِّي إِلَى قِدْحِهِ ، لأَنَّ فِيهِ قِيَامُ الإِسْلامِ وَمَنْعَ الدِّينِ عَنِ الانْثِلامِ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جب مسجد میں شعر سنا رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جھڑکا تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہاں اس وقت شعر سنایا کرتا تھا جب یہاں وہ ہستی موجود ہوتی تھی جو آپ سے بہتر تھی، پھر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے: میں آپ کو اللہ کی قسم! دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: (اے حسان!) تم میری طرف سے جواب دو اے اللہ! تو روح القدس کے ذریعے اس کی تائید کر ۔“ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرنے کا حکم ایک ایسا حکم ہے جس کا مخصوص پس منظر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دیا تھا لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر لگائے جانے والے جھوٹے الزام آپ کی طرف منسوب کیے جانے والے جھوٹ اور آپ پر ہونے والے اعتراضات کے حوالے سے آپ کی طرف سے دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایسا کرنا اس پر لازم ہے۔ ایسی صورت میں اسلام (کے احکام) کو قائم کرنے اور دین کو بربادی سے روکنے کی صورت پائی جاتی ہے۔