صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب المساجد - ذكر الزجر عن رفع الأصوات في المساجد لأجل شيء من أسباب هذه الدنيا الفانية باب: مساجد کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ مساجد میں دنیاوی اسباب کی وجہ سے آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 1651
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَمِعَ رَجُلا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ ، فَلْيَقُلْ : لا أَدَّاهَا اللَّهُ عَلَيْكَ ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو شخص کسی کو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنے تو یہ کہےاللہ تعالیٰ یہ چیز تمہیں واپس نہ کرے، کیونکہ مساجد اس مقصد کے لئے نہیں بنائی گئی ہیں ۔“