صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب المساجد - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل باب: مساجد کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر اس عمل سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 1615
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُفِيانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخَرَفْتَهَا الْيَهُودُ ، وَالنَّصَارَى ، أَبُو فَزَارَةَ رَاشِدُ بْنُ كَيْسَانَ مِنْ ثِقَاتِ الْكُوفِيينَ وَأَثْبَاتِهِمْ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” مجھے مساجد کو آراستہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ” تم لوگ ان مساجد کو اسی طرح آراستہ کرو گے جس طرح یہودیوں اور عیسائیوں نے (اپنی عبادت گاہوں کو) آراستہ کیا ۔“ ابوفزارہ نامی راوی راشد بن کیسان ہے، اور یہ کوفہ سے تعلق رکھنے والے ” ثقہ “ اور ثبت راویوں میں سے ایک ہے۔