صحیح ابن حبان
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے احکام و مسائل
باب فرض الإيمان - ذكر الخبر الدال على أن الإسلام والإيمان اسمان بمعنى واحد يشتمل ذلك المعنى على الأقوال والأفعال معا- باب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اسلام اور ایمان ایک ہی معنی کے دو نام ہیں جو اقوال اور افعال دونوں کو شامل ہیں
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أبيه ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ عَدَدَ أَصَابِعِي هَذِهِ أَنْ لا آتِيَكَ ، فَمَا الَّذِي بَعَثَكَ بِهِ ؟ قَالَ : " الإِسْلامُ " ، قَالَ : وَمَا الإِسْلامُ ؟ ، قَالَ : " أَنْ تُسْلِمَ قَلْبَكَ لِلَّهِ ، وَأَنْ تُوَجِّهَ وَجْهَكَ لِلَّهِ ، وَأَنْ تُصَلِّيَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، أَخَوَانِ نَصِيرَانِ ، لا يَقَبْلُ الِلَّهِ مِنْ عَبْدٍ تَوْبَةً أَشْرَكَ بَعْدَ إِسْلامِهِ " .حکیم بن معاویہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے۔ میں اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، جب میں اپنی انگلیوں کی تعداد میں یہ قسم اٹھا چکا تھا کہ میں آپ کے پاس کبھی نہیں آؤں گا۔ آپ کو کس چیز کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کے۔ انہوں نے دریافت کیا: اسلام کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے دل کواللہ تعالیٰ کے لئے جھکا دو اور تم اپنا رُخاللہ تعالیٰ کی طرف کر لو۔ اور تم فرض نماز ادا کرو اور تم فرض زکوۃ ادا کرو۔ یہ دو بھائی ہیں، جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔اللہ تعالیٰ کسی بھی ایسے بندے کی توبہ قبول نہیں کرے گا، جو اسلام قبول کرنے کے بعد شرک کا ارتکاب کرے گا۔