صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر البيان بأن المدرك ركعة من صلاة الصبح قبل طلوع الشمس وركعة بعدها يكون مدركا لصلاة الغداة باب: ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس بیان کا ذکر کہ جو شخص فجر کی نماز کی ایک رکعت سورج نکلنے سے پہلے اور ایک اس کے بعد پالے، وہ فجر کی نماز پالیتا ہے
حدیث نمبر: 1585
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَرَكْعَةً بَعْدَمَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ” جو شخص عصر کی ایک رکعت کو سورج غروب ہونے سے پہلے پا لے اس نے اس (نماز) کو پا لیا اور جو شخص فجر کی ایک رکعت کو سورج نکلنے سے پہلے پا لے اور ایک رکعت سورج نکلنے کے بعد ادا کرے اس نے اس (فجر کی نماز) کو پا لیا ۔“