صحیح ابن حبان
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے احکام و مسائل
باب فرض الإيمان- باب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان -
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَ إِلَى الْيَمَنِ ، قَالَ : " إِنَّكَ تَقَدْمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ ، فَعَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ ، وَفَعَلُوهَا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ ، فَأَطَاعُوا بِهَذَا فَخُذْ مِنْهُمْ ، وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : هَذَا النَّوْعُ مِثْلُ الْحَجِّ وَالزَّكَاةِ وَمَا أَشْبَهَهُمَا مِنَ الْفَرَائِضِ الَّتِي فُرِضَتْ عَلَى بَعْضِ الْعَاقِلِينَ الْبَالِغِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ لا الْكُلِّ .سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ” تم اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی طرف جا رہے ہو، تم انہیں سب سے پہلے اللہ کی عبادت کی دعوت دینا، جب وہاللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لیں، تو تم انہیں بتانا کہاللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ نماز میں فرض کی ہیں جب وہ ایسا کر لیں، تو انہیں بتانا کہاللہ تعالیٰ نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے، جو ان کے اموال میں سے وصول کی جائے گی اور ان کے غریب لوگوں کی طرف لوٹا دی جائے گی، جب وہ اس حکم کی فرمانبرداری کریں، تو تم ان سے زکوۃ وصول کر لینا اور لوگوں کے عمدہ مال حاصل کرنے سے بچنا ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ قسم جیسے حج اور زکوۃ اور ان جیسے دیگر فرائض (وہ ہیں) جو بعض عاقل و بالغ لوگوں پر بعض مخصوص حالتوں میں فرض قرار دیئے گئے ہیں، یہ ہر حال میں فرض نہیں ہیں (یعنی زکوۃ اس پر فرض ہو گی جو صاحب نصاب ہو اور اس نصاب پر ایک سال گزر جائے اور حج اس پر فرض ہو گا جس کے لئے حج کے مخصوص ایام میں مکہ تک جانا ممکن ہو۔ یہ ہر مسلمان پر ہر حال میں فرض نہیں ہے۔)