صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر خبر ثان على أن الزجر عن الصلاة بعد العصر لم يرد به صلاة التطوع كلها باب: ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - دوسری خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عصر کے بعد نماز سے ممانعت سے تمام نفلی نمازیں مراد نہیں
حدیث نمبر: 1559
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاةٌ لِمَنْ شَاءَ ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاةٌ لِمَنْ شَاءَ " ، وَكَانَ ابْنُ بُرَيْدَةَ يُصَلِّي قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ .سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” دو اذانوں (یعنی اذان اور اقامت) کے درمیان نماز ادا کی جاتی ہے۔ یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے، جو یہ چاہے، ہر دو اذانوں (یعنی اذان اور اقامت) کے درمیان نماز ادا کی جاتی ہے یہ (حکم) اس کے لئے ہے، جو چاہے ۔“ ابن بریدہ نامی راوی مغرب سے پہلے بھی دو رکعات ادا کیا کرتے تھے۔