صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر الخبر الدال على أن هذا الزجر أطلق بلفظة عام مرادها خاص باب: ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس ممانعت کو عام لفظ کے ساتھ بیان کیا گیا لیکن اس سے خاص مراد ہے
حدیث نمبر: 1552
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، إِنْ كَانَ إِلَيْكُمْ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ ، فَلا أَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْهُمْ أَنْ يَمْنَعَ مَنْ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ " .سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اے عبدالمطلب کی اولاد! اگر (خانہ کعبہ کے امور کی نگرانی کا) معاملہ تمہارے سپرد ہو، تو میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ وہ بیت اللہ کے قریب کسی شخص کو نماز ادا کرنے سے منع کرے خواہ رات یا دن کی کوئی سی بھی گھڑی ہو ۔“