صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر البيان بأن هذا العدد المحصور في خبر أبي هريرة لم يرد به النفي عما وراءه باب: ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس بیان کا ذکر کہ ابوہریرہ کی خبر میں محدود تعداد سے اس کے علاوہ کی نفی مراد نہیں
حدیث نمبر: 1546
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ يَزِيدَ الْفَرَّاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : " ثَلاثُ سَاعَاتٍ كَانَ يَنْهَانَا عَنْهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ ، وَأَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا : حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ ، وَحِينَ تَصَوَّبُ الشَّمْسُ لِغُرُوبِهَا " .سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تین اوقات ایسے ہیں، جن میں نماز ادا کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کیا ہے، اور ان اوقات میں ہمیں اپنے مردوں کو دفنانے سے منع کیا ہے۔ اس وقت جب سورج طلوع ہو رہا ہو، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے۔ اس وقت جب عین زوال کا وقت ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے اور اس وقت جب سورج غروب ہونے کے قریب ہو۔