صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مواقيت الصلاة - ذكر خبر قد تعلق به بعض من لم يحكم صناعة الحديث فزعم أن تأخير المصطفى صلى الله عليه وسلم صلاة العشاء كان ذلك في أول الإسلام باب: نماز کے اوقات کا بیان - اس خبر کا ذکر جس سے بعض لوگ جو حدیث کی صنعت میں مہارت نہیں رکھتے، یہ سمجھے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا عشاء کی نماز مؤخر کرنا اسلام کے ابتدائی دور میں تھا
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ ، بِعَسْقَلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلاةِ الْعِشَاءِ ، وَهِيَ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ : " مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ " ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلامُ فِي النَّاسِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَذَكَرُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تَبْدُرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّلاةِ " ، وَذَلِكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی۔ یہ وہ نماز ہے جسے ” عتمہ“ کہا: جاتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد میں) تشریف نہیں لائے یہاں تک کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (بلند آواز میں کہا:) خواتین اور بچے سو چکے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے تشریف لانے کے بعد اہل مسجد سے فرمایا۔ اس وقت تمہارے علاوہ روئے زمین پر اور کوئی شخص اس کا انتظار نہیں کر رہا۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں) یہ لوگوں کے درمیان اسلام کے پھیل جانے سے پہلے کی بات ہے۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: راویوں نے یہ بات ذکر کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ ” تمہارے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے، تم نماز کے حوالے سے اللہ کے رسول سے آگے نکلنے کے کوشش کرو ۔“ یہ بات آپ نے اس وقت ارشاد فرمائی تھی جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں (آپ کی خدمت میں گزارش کی تھی)