صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مواقيت الصلاة - ذكر الإباحة للمرء تأخير العشاء الآخرة إذا لم يخف ضعف الضعيف وكان ذلك برضا المأمومين باب: نماز کے اوقات کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ عشاء کی آخری نماز کو اس کے پہلے وقت سے مؤخر کرے اگر اسے کمزور کی کمزوری کا خوف نہ ہو اور یہ مأمومین کی رضامندی سے ہو
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْعِشَاءِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ يَنْتَظِرُونَ الصَّلاةَ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الأَدْيَانِ أَحَدٌ يَذْكُرُ اللَّهَ هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ " ، ثُمَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِ : لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّهِ إِلَى يَسْجُدُونَ سورة آل عمران آية 113 .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لائے لوگ نماز کا انتظار کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اس وقت تمہارے علاوہ کسی بھی دین کا ماننے والا کوئی بھی شخصاللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کر رہا ۔“ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ” وہ لوگ برابر نہیں ہیں۔ اہل کتاب سے تعلق رکھنے والی ایک امت ایسی ہے جو قیام کی حالت میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں ۔“ یہ آیت یہاں تک ” وہ سجدہ کرتے ہیں ۔“