صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مواقيت الصلاة - ذكر البيان بأن الحر كلما اشتد يجب أن يبرد بالظهر أكثر باب: نماز کے اوقات کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جتنی زیادہ گرمی ہو، ظہر کی نماز کو اتنا ہی زیادہ ٹھنڈا کرنا چاہیے
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِالظُّهْرِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْرِدْ " ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ ، فَقَالَ لَهُ : " أَبْرِدْ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا ، حَتَّى رَأَيْنَا فِيءَ التُّلُولِ ، وَقَالَ : " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فِيحِ جَهَنَّمَ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو الْحَسَنِ عُبَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ مُهَاجِرٌ كُوفِي .زید بن وہب بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ مؤذن نے ظہر کی نماز کے لئے اذان دینے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ٹھنڈک ہو لینے دو پھر اس نے اذان دینے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ٹھنڈک ہو لینے دو ایسا دو مرتبہ یا شاید تین مرتبہ ہوا یہاں تک کہ جب ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھ لئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے، تو جب گرمی شدید ہو، تو تم (ظہر کی) نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوالحسن عبید بن حسن مہاجر کوفی ہے۔