صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر تاسع يدل على صحة ما ذكرنا أن العرب تطلق اسم المتوقع من الشيء في النهاية على البداية باب: نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - نویں خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عرب شروع میں اس چیز پر متوقع نتیجے کا نام رکھ دیتے ہیں
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : إِذَا مَارَى الْمَرْءُ فِي الْقُرْآنِ أَدَّاهُ ذَلِكَ إِنْ لَمْ يَعْصِمْهُ اللَّهُ إِلَى أَنْ يَرْتَابَ فِي الآيِ الْمُتَشَابِهِ مِنْهُ ، وَإِذَا ارْتَابَ فِي بَعْضِهِ أَدَّاهُ ذَلِكَ إِلَى الْجَحْدِ ، فَأَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الْكُفْرِ الَّذِي هُوَ الْجَحْدُ عَلَى بِدَايَةِ سَبَبِهِ الَّذِي هُوَ الْمِرَاءُ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” قرآن کے بارے میں بحث و مباحثہ کرنا کفر ہے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب کوئی شخص قرآن کے بارے میں بحث کرنا شروع کرتا ہے، تو یہ چیز اسے اس چیز کی طرف لے جاتی ہے کہ اگراللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے، تو وہ شخص متشابہہ آیات کے بارے میں شکوک کا شکار ہو جاتا ہے اور جب وہ قرآن کے بعض حصے کے بارے میں شک کا شکار ہوتا ہے تو یہ چیز انکار کی طرف لے جاتی ہے اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر جو درحقیقت انکار ہے اس کا اطلاق اس کے سبب کے آغاز پر کیا ہے اور وہ (قرآن کے بارے میں) بحث کرنا ہے۔