صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فرض الصلاة - ذكر البيان بأن الصلوات الخمس أخذها محمد عن جبريل صلوات الله عليهما باب: نماز کے فرض ہونے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ پانچ نمازیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام سے لیں
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عَلَى بَابِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ ، وَمَعَهُ عُرْوَةُ ، فَأَخَّرَ عُمَرُ الْعَصْرَ شَيْئًا ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ : أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى أَمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ " ، فَحَسَبَ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ .ابن شہاب کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ عمر بن عبدالعزیز کے مدینہ منورہ کا گورنر ہونے کے زمانے میں ان کے دروازے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ عروہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں کچھ تاخیر کر دی تو عروہ نے ان سے کہا: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نماز ادا کی، تو عمر بن عبدالعزیز نے کہا: اے عروہ! آپ دھیان کریں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، تو عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابومسعود کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ میں نے سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے انہوں نے نماز ادا کی میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی ۔“ انہوں نے اپنی انگلیوں پر شمار کر کے پانچ نمازوں کے بارے میں بتایا۔