صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب الاستطابة - ذكر ما يجب على المرء من مس الماء عند خروجه من الخلاء باب: استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ خلاء سے نکلنے پر پانی کو چھوئے
حدیث نمبر: 1441
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا الْعَشْرَ قَطُّ ، وَلا خَرَجَ مِنَ الْخَلاءِ إِلا مَسَّ مَاءً " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (ذوالحج کے ابتدائی) دس دنوں میں روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا آپ جب بھی قضائے حاجت کر کے تشریف لاتے تھے، تو پانی استعمال کرتے تھے۔