صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب الاستطابة - ذكر العلة التي من أجلها أمر بهذا الأمر باب: استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر اس حکم کا امر کیا گیا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الاسْتِنْثَارُ هُوَ إِخْرَاجُ الْمَاءِ مِنَ الأَنْفِ ، وَالاسْتِنْشَاقُ : إِدْخَالُهُ فِيهِ ، فَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ " أَرَادَ فَلْيَسْتَنْشِقْ ، فَأَوْقَعَ اسْمَ الْبِدَايَةِ الَّذِي هُوَ الاسْتِنْشَاقُ عَلَى النِّهَايَةِ الَّذِي هُوَ الاسْتِنْثَارُ ، لأَنَّهُ لا يُوجَدُ الاسْتِنْثَارُ إِلا بِتَقَدُّمِ الاسْتِنْشَاقِ لَهُ ، وَالاسْتِجْمَارُ هُوَ الاسْتِطَابَةُ ، وَهُوَ إِزَالَةُ النَّجَاسَةِ عَنِ الْمَخْرَجَيْنِ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ” جو شخص وضو کرے اسے ناک میں پانی ڈالنا چاہئے اور جو شخص پتھر استعمال کرے اسے طاق تعداد میں کرنے چاہئیں ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ استنثار سے مراد ناک سے پانی کو باہر نکالنا ہے اور استنشاق سے مراد ناک میں پانی کو داخل کرنا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان جو شخص وضو کرے اسے استنثار کرنا چاہئے اس سے مراد یہ ہے کہ اسے استنشاق کرنا چاہئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں آغاز کے لفظ استنشاق کو اختتام کیلئے استعمال کیا ہے، جو استنشار ہے کیونکہ استنشار صرف اس وقت پایا جاتا ہے، جب اس سے پہلے استنشاق موجود ہو اور استجمار سے مراد پاکیزگی حاصل کرنا یعنی دونوں مخرجوں سے نجاست کو زائل کرنا ہے۔