صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب الاستطابة - ذكر العلة التي من أجلها أمر بهذا الأمر باب: استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر اس حکم کا امر کیا گیا
حدیث نمبر: 1437
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ يَحْيَى أَبُو السَّرِيِّ ، بِنَصِيبِينَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ ، أَمَا تَرَى السَّمَاوَاتِ سَبْعًا ، وَالأَيَّامَ سَبْعًا ، وَالطَّوَافَ ؟ " ، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی شخص پتھر استعمال کرے، تو طاق تعداد میں کرے، کیونکہاللہ تعالیٰ طاق ہے وہ طاق کو پسند کرتا ہے کیا تم نے دیکھا نہیں ہے۔ آسمان سات ہیں دن سات ہیں طواف (کے چکر) سات ہیں ۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور بھی کچھ چیزوں کا تذکرہ کیا۔،