صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب الاستطابة - ذكر الخبر الدال على صحة ما تأولنا قوله صلى الله عليه وسلم لا تبل قائما باب: استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو" کے ہمارے تأویل کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ ، فَبَالَ قَائِمًا ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفِيهِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عَدَمُ السَّبَبِ فِي هَذَا الْفِعْلِ هُوَ عَدَمُ الإِمْكَانِ ، وَذَاكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى السُّبَاطَةَ وَهِيَ الْمَزْبَلَةُ ، فَأَرَادَ أَنْ يَبُولَ ، فَلَمْ يَتَهَيَّأْ لَهُ الإِمْكَانُ ، لأَنَّ الْمَرْءَ إِذَا قَعَدَ يَبُولُ عَلَى شَيْءٍ مُرْتَفِعٍ عَنْهُ رُبَّمَا تَفَشَّى الْبَوْلُ ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ ، فَمَنْ أَجْلِ عَدَمِ إِمْكَانِهِ مِنَ الْقُعُودِ لِحَاجَةٍ بَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا .سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے۔ آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا پھر آپ نے پانی منگوایا اور وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کر لیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس فعل میں سبب کا نہ ہونا۔ امکان کا نہ ہونا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے جو گندگی تھی۔ آپ نے پیشاب کرنے کا ارادہ کیا لیکن (وہاں بیٹھ کر پیشاب کرنا) بھی ممکن نہیں تھا کیونکہ جب آدمی کسی ایسی جگہ بیٹھ کر پیشاب کرتا ہے، جو کچھ بلند ہو تو پیشاب پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور آدمی کی طرف واپس آ سکتا ہے، تو قضائے حاجت کیلئے بیٹھنے کیلئے ممکن نہ ہونے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا تھا۔