صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب الاستطابة - ذكر الخبر الدال على أن الزجر عن استقبال القبلة واستدبارها بالغائط والبول إنما زجر عن ذلك في الصحارى دون الكنف والمواضع المستورة باب: استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے سے گوبر یا پیشاب کے وقت ممانعت صرف صحراؤں میں ہے، نہ کہ کنف یا مستور جگہوں میں
حدیث نمبر: 1421
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ : إِذَا قَعَدْتَ لِحَاجَتِكَ فَلا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ ، وَلا بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا ، " فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، لوگ یہ کہتے ہیں: جب تم قضائے حاجت کے لئے بیٹھو تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرو یا بیت المقدس کی طرف رخ نہ کرو حالانکہ میں ایک مرتبہ اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے قضائے حاجت کرتے ہوئے دیکھا۔