صحیح ابن حبان
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے احکام و مسائل
باب التكليف - ذكر الإخبار عن العلة التي من أجلها إذا عدمت رفعت الأقلام عن الناس في كتبة الشيء عليهم- باب: تکلیف کا بیان - اس علت کا بیان جس کی بنا پر جب وہ حالت نہ رہے تو لوگوں کے نامہ اعمال میں اس چیز کا لکھنا موقوف ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 142
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيَمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاثَةٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الْغُلامِ حَتَّى يَحْتَلِمَ ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” تین لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔ سوئے ہوئے شخص سے، یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، نابالغ بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور مجنون سے، یہاں تک کہ اسے افاقہ ہو جائے ۔“