صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب الاستطابة - ذكر أحد التخصيصين اللذين يخصان عموم تلك اللفظة التي ذكرناها باب: استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس دو تخصیصات میں سے ایک کا ذکر جو ہمارے ذکر کردہ اس لفظ کی عمومیت کو خاص کرتی ہیں
حدیث نمبر: 1419
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَوْثُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ زِيَادٍ الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ ، فَدَعَا بِطَسْتٍ ، وَقَالَ لِلْجَارِيَةِ : اسْتُرِينِي ، فَسَتَرَتْهُ ، فَبَالَ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى أَنْ يَبُولَ أَحَدُكُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ " .غوث بن سلیمان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ ہم جمعہ کے دن سیدنا عبداللہ بن حارث زبیدی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ایک طشت منگوایا انہوں نے کنیز سے فرمایا تم میرے لئے پردہ کر دو۔ اس نے ان کے لئے پردہ کر دیا۔ انہوں نے اس طشت میں پیشاب کیا اور پھر یہ بات بیان کی۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: آپ نے اس بات سے منع کیا ہے، کوئی شخص قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کرے۔