صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب الاستطابة - ذكر إباحة استتار المرء بالهدف أو حائش النخل إذا تبرز باب: استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ رفع حاجت کے وقت ڈھیل یا کھجور کے درختوں کے جھنڈ سے پردہ کرے
حدیث نمبر: 1412
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَ ، يُحَدِّثُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : " رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَتَهُ ، وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ كَانَ أَحَبَّ مَا تَبَرَّزَ إِلَيْهِ هَدَفٌ يَسْتَتِرُ بِهِ ، أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ ، قَالَ : فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ " .سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار ہوئے آپ نے مجھے بھی اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تو آپ کو یہ بات پسند تھی کہ آپ کسی ٹیلے کی اوٹ میں قضائے حاجت کریں، یا کھجوروں کے جھنڈ کی اوٹ میں کریں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے۔