صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب النجاسة وتطهيرها - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن المصطفى صلى الله عليه وسلم إنما أباح لهم شرب أبوال الإبل للتداوي لا أنها غير نجسة باب: نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرنیین کو اونٹ کا پیشاب پینے کی اجازت علاج کے لیے دی، نہ کہ اس کے غیر نجس ہونے کی وجہ سے
حدیث نمبر: 1390
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْر ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ طَارِقٍ " سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ ، وَقَالَ : إِنَّا نَصْنَعُهَا ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا دَوَاءٌ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَا لَيْسَتْ بِدَوَاءٍ ، وَلَكِنَّهَا دَاءٌ " .سیدنا وائل بن حجر بیان کرتے ہیں۔ سیدنا سوید بن طارق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے عرض کی: ہم اسے تیار کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کر دیا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ دوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دوا نہیں بلکہ یہ بیماری ہے۔