صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب النجاسة وتطهيرها - ذكر الخبر المصرح بأن أبوال ما يؤكل لحومها غير نجسة باب: نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے، ان کا پیشاب نجس نہیں
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَدِمَ أَعْرَابٌ مِنْ عُرَيْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ ، " فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَشَرِبُوا حَتَّى صَحُّوا ، فَقَتَلُوا رُعَاتَهَا وَاسْتَاقُوا الإِبِلَ ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ ، فَأُتِيَ بِهِمْ ، فَقَطَعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ " . قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ لأَنَسٍ : وَهُوَ يُحَدِّثُهُ بِكُفْرٍ أَوْ بِذَنْبٍ ؟ قَالَ : بِكُفْرٍ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پئیں ان لوگوں نے وہ پیا تو وہ صحت مند ہو گئے۔ انہوں نے اونٹوں کے چرواہے کو قتل کر دیا، اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں لوگ روانہ کئے۔ انہیں پکڑ کر لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دئیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں۔ عبدالملک نامی راوی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا ان کے کفر کی وجہ سے ایسا کیا گیا تھا یا ان کے گناہ (قتل) کی وجہ سے؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کے کفر کی وجہ سے۔