صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب النجاسة وتطهيرها - ذكر العلة التي من أجلها أهوى المصطفى صلى الله عليه وسلم إلى حذيفة باب: نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ کی طرف اشارہ کیا
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا لَقِيَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِهِ مَسَحَهُ وَدَعَا لَهُ ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا بُكْرَةً ، فَحِدْتُ عَنْهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ ، فَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُكَ فَحِدْتَ عَنِّي " ، فَقُلْتُ : إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا ، فَخَشِيتُ أَنْ تَمَسَّنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ لا يَنْجُسُ " .سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے اصحاب میں سے جب بھی کسی شخص کے ساتھ ملاقات ہوتی تھی، تو آپ اس پر ہاتھ پھیرتے تھے اور اسے دعا دیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے صبح کے وقت دیکھا تو ایک طرف ہٹ گیا پھر دن چڑھ جانے کے بعد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں دیکھا تھا کہ تم (مجھے دیکھ کر) ایک طرف ہٹ گئے تھے میں نے عرض کی: میں اس وقت جنابت کی حالت میں تھا مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ ایسی حالت میں مجھے مس نہ کر لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان نجس نہیں ہوتا۔