صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب الحيض والاستحاضة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن خبر عمرة تفرد به عمرو بن الحارث والأوزاعي باب: حیض اور استحاضہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ عمرہ کی خبر عمرو بن الحارث اور اوزاعی نے تنہا بیان کی
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلَمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، وَالأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعُمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتِ : اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أُخْتُهَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ سَبْعَ سِنِينَ ، فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا : " لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ ، وَلَكِنَّهُ عِرْقٌ ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي " ، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاةٍ ، وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنِ أُخْتِهَا ، فَكَانَتْ حُمْرَةُ الدَّمِ تَعْلُو الْمَاءَ " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ام حبیبہ بنت جحش کو استحاضہ کی شکایت ہو گئی۔ وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھی۔ ان کی بہن سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ تھی) اس خاتون کو سات سال تک استحاضہ کی شکایت رہی۔ انہوں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں یہ کسی دوسری رگ کا مواد ہے تم غسل کر کے نماز ادا کرتی رہو، تو وہ خاتون ہر نماز کے لئے غسل کیا کرتی تھی۔ وہ اپنی بہن کے ٹب میں بیٹھ جاتی تھی، اور خون کی سرخی پانی پر غالب آ جاتی تھی۔