حدیث نمبر: 133
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تُنَاتَجُ الإِبِلُ مِنْ بَهِيَمَةٍ جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّ مِنْ جَدْعَاءَ ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتَ وَهُوَ صَغِيرٌ ، قَالَ : " الِلَّهِ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں، جس طرح اونٹنیاں صحیح و سالم بچے کو جنم دیتی ہیں۔ کیا تمہیں ان میں سے کوئی کان کٹا ہوا ملتا ہے ۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایسے بچے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو کمسنی میں انتقال کر جائے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے، جو اس نے عمل کرنے تھے ۔“

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 133
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين. أبو الزناد: هو عبد الله بن ذكوان، والأعرج: هو عبد الرحمن بن هرمز.