صحیح ابن حبان
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
باب المسح على الخفين وغيرهما - ذكر الخبر المدحض قول من نفى جواز المسح على الخفين للمقيم إذا لم يكن مسافرا باب: موزوں اور دیگر (جوتوں یا پٹیوں وغیرہ) پر مسح کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ مقیم کے لیے موزوں پر مسح جائز نہیں اگر وہ مسافر نہ ہو
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمْ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : دَخَلَ بِلالٌ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الأسواق ، فذهب لحاجته ، ثم خرج ، قَالَ أُسَامَةُ ، فَسَأَلْتُ بِلالا : مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بِلالٌ : " ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفِينِ ، ثُمَّ صَلَّى " .سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بازار تشریف لائے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے پھر آپ نے وضو کرتے ہوئے چہرے اور دونوں بازوؤں کو دھویا۔ آپ نے سر پر مسح کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا پھر آپ نے نماز ادا کی۔