حدیث نمبر: 1306
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : إِنِّي أَجْنَبْتُ ، فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ ، فَقَالَ عُمَرُ : لا تُصَلِّ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنْتَ وَأَنَا فِي سَرِيَّةٍ ، فَأَجْنَبْنَا ، فَلَمْ نَجْدِ الْمَاءَ ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ ، وَأَمَّا أَنَا ، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ ، فَصَلَّيْتُ ، فَلَمْا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ : وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الأَرْضِ ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا ، وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفِيهِ " .

عبدالرحمن بن ابزی بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ بولا: مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے، اور مجھے پانی نہیں ملا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نماز نہ پڑھو تو سیدنا عمار نے کہا: اے امیر المؤمنین کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، میں اور آپ ایک جنگ میں تھے اور ہمیں جنابت لاحق ہو گئی اور پانی نہیں ملا آپ نے تو نماز ادا نہیں کی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا تھا، اور میں نے نماز ادا کر لی۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہیں اتنا کافی تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک زمین پر مارا اس پر پھونک ماری اور ان دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے اور بازوؤں پر پھیر لیا۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1306
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (345): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، وهو مكرر (1267) الذي أورده المؤلف طريق يزيد بن زريع، عن شعبة، به.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1303»