حدیث نمبر: 1305
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمْةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : لَوْ أَنَّ جُنُبًا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا لَمْ يُصَلِّ ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لا ، قَالَ أَبُو مُوسَى : أَمَا تَذْكُرُ حِينَ قَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَلا تَتَّقِي اللَّهَ ، أَلا تَذْكُرُ حِينَ بَعَثَنِي وَإِيَّاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِبِلِ ، فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ ، فَلَمْا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا : وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى الأَرْضِ ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لا جَرَمَ مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ ، قَالَ أَبُو مُوسَى : فَكَيْفَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ ، فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43 ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي ذَلِكَ يُوشِكُ إِذَا بَرَدَ عَلَى جِلْدِ أَحَدِهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمَ ، قَالَ الأَعْمَشُ : فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ : أَمَا كَانَ لِعَبْدِ اللَّهِ غَيْرُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : لا .

شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا اگر کسی جنبی کو ایک مہینے تک پانی نہیں ملتا تو کیا وہ نماز ادا نہیں کرے گا۔ سیدنا عبداللہ نے فرمایا: نہیں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: تھا کہ اے امیر المؤمنین کیا آپاللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہیں۔ کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، اللہ کے رسول نے مجھے اور آپ کو (اونٹوں) کے باڑے میں بھیجا تھا، تو مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا جب میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے لئے یہ کافی تھا کہ تم اس طرح کر لو، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک زمین پر مارا اور اپنے چہرے اور بازوؤں پر پھیر لیا۔ سیدنا عبداللہ نے فرمایا: یہ بات طے ہے، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تھا کہ انہوں نے اس پر قناعت نہیں کی تھی، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر آپ سورۃ نساء میں موجود اس آیت کے بارے میں کیا کہیں گے۔ ” اور تمہیں پانی نہیں ملتا تو تم پاک مٹی کے ذریعے تیمم کر لو ۔“ اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر ہم لوگوں کو اس بارے میں رخصت دینا شروع کر دیں تو عنقریب ایسا وقت آ جائے گا کہ جب ان میں سے کسی ایک کو پانی ٹھنڈا لگے گا، تو وہ تیمم کر لیا کرے گا۔ اعمش نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میں نے شقیق سے کہا: کیا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (کی اس مسئلے کے بارے میں) کوئی اور دلیل بھی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1305
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1302»